مطلب و مثالیں:Qaseeda Ghausia Sharah Makhda Muqami
قصیدہ غوثیہ شرح مخدع مقامی
The term Makhda Muqami, prominently featured in the concluding couplets of Qaseeda Ghausia by Hazoor Ghaus Azam Sheikh Abdul Qadir Jilani, holds deep mystical significance. This detailed explanation, along with illustrative examples, is extracted from the authoritative book Saheefa Ghausia Sharah Qaseeda Ghausia by Hazrat Syed Abul Faiz Qalandar Ali Soharwardy.The objective of this post is to explain Makhda Muqami Meaning in Urdu for our readers.
.کے تحت بیان کیا گیا ہے، جس کا مرکزی لنک یہاں ہے Qaseeda Ghausia Sharah مخدع مقامی کا یہ تفصیلی مقام حضرت سید ابوالفیض قلندر علی کی
Saheefa Ghausia (Sharah Nazam o Nasar Urdu) Qaseeda Ghausia
مخدع اصطلاح صوفیا میں معرفت الہی کے مقامات سے ایک خاص مقام ہے ۔ جو تمام اقطاب سے کسی خاص و ممتاز قطب کو حاصل ہوتا ہے۔اور عربی لغت کے لحاظ سے اسرار نہانی یعنی پوشیدہ رازوں کےخانہ کو کہتے ہیں۔یہ مقام آنجناب غوثیت مآب رضی اللہ عنہ کے لیے مخصوص تھا۔دیگر اولیائے کرام سے کم ہی لوگوں کو یہ نصیب ہوا ہے
بعض صوفیا کرام نے لکھا ہے کہ لفظ مخدع ۔خدع سے مشتق ہے اور خدع کے معنى کمینگاہ یا اس پوشیدہ جگہ کے ہیں ۔جہاں سامان حرب اور آلات جنگ پوشیدہ رکھے جایں
حضرت بایزید بسطامی اور درویش کا مکالمہ
ایک دفعہ حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کو شیطان ملا ۔اور کہنے لگا۔کہ اگر تم مرد خدا سے ملنا چاہتے ہوتو اس درویش کو ملو جو مسجد میں بیٹھا ہے۔جب حضرت بایزید علیہ الرحمہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخض مراقبہ میں مستغرق ہے تین بار سلام کہا مگر جواب نہ پایا۔چوتھی بار جب منت سماجت سے اس درویش کو مخاطب کرنا چاہا۔تو وہ بولا کہ اے با یزید۔دشمن کہ کہنے پہ کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔میں نہ خدا کا دوست ہوں ۔اور نہ ہی مردان خدا سے ہوں۔اگر ہوتا تو دشمن خدا مجھ کو نہ جان سکتا۔اور جب تک دشمن ہمیں جانتا ہے ۔ ہم اس سے امن میں نہیں ہیں۔ہم مرد خدا یا خدا دوست اس وقت ہوں گے جب دشمن خدا ہم کو نہ پہچان سکے گا۔جس مال کا علم چور کو ہے ۔اس کے چرائے جانے کا خطرہ یقینی ہے۔یہی مقام مخدع ہے ۔جس کا ارشاد یہ بزرگ کر رہے ہیں۔پس سیدنا غوث اعظم کو یہی مقام قرب حاصل ہے۔
حضرت عبدالرحمن طفسونجی اور غوث پاک کے مرید
تحفہ قادریہ میں لکھا ہے ۔کہ شیخ ابو محمد عبدالرحمن طفسونجی منبر پر چڑھے اور فرمایا ۔کہ میں اولیااللہ کے درمیان ایسا ہوں ۔جیسے کلنگ پرندوں میں ہوتا ہےکہ اس کی گردن بسب سے بلند ہوتی ہے۔اس وقت شیخ ابوالحسن علی بن احمد بھی وہاں موجود تھے۔فورا بول اٹھے ۔اور گودڑی جسم سے علیحدہ کر دی ۔ کہ کیا اپ مجھے اجازت دیتے ہیں ۔کہ میں اپ سے کشتی لڑوں شیخ عبدالرحمن خاموش ہو گے۔اور اپنے دوستوں سے کہنے لگے کہ میں اس شخض کہ جسم پر کوئی بھی بال حال سے خالی نہیں دیکھتا اور شیخ ابوالحسن علی بن احمد کو کہا کہ اپنی گودڑی پہن لو۔اس نے جواب دیا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جب ایک چیز سے تعلق قطع کر لیں ۔ پھر اس جانب بازگشت نہیں کرتے۔پھر شیخ عبدالرحمن طفسونجی نے پوچھا کہ آپ کے پیر طریقت کون بزرگ ہیں۔جواب دیا
گفت شیخم شیخ عبدالقادر است کز جلالت اولیا را راہبر است
کہا میرے شیخ عبدالقادر ہیں۔۔۔جو جلالت کا منبع اور اولیا کے رہبر ہیں۔
شیخ عبدالرحمن نےکہا کہ آپ کے شیخ کا نام میں نے زمین پر تو بہت سنا ہے ۔لیکن چالیس برس سے میں درکات قدرت میں ہوتا ہوں۔وہاں پر کبھی نہ ان کا ذکر پایا نہ ان کو دیکھا ہے۔اتنا کہہ کر اپنے اصحاب سے کہنے لگے کہ عبدالقادر رضی اللہ عنہ کے پاس جاوٰ۔اور کہو۔ کہ عبدالرحمن کہتا ہے ۔کہ میں چالیس برس سے درکات قدرت میں متمکن ہوں ۔لیکن آپ کو وہاں کبھی نہیں دیکھا۔یہاں یہ قصہ ہو رہا ہے۔اُدھر حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کو فرماتے ہیں۔کہ عبدالرحمن کی طرف جاوٰ۔اور اس نے اپنے بعض احباب کو ہماری جانب روانہ کیا ہے۔ان کو بھی مل کر ساتھ ہی واپس لے جاوٰ۔اور اس سے کہو کہ عبدالقادر کہتا ہے۔کہ تو درکات میں تھا۔اور جو درکات میں ہوتا ہےوہ درگاہ کو نہیں دیکھتااور جو درگاہ میں ہوتا ہے۔ وہ مخدع والے کو نہیں دیکھتا ۔میں تیرے سر سے گزرا کرتا تھاکیونکہ میرا خزانہ پوشیدہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ تو نے مجھے نہیں دیکھا۔اور اگر تو اس بات کی تصدیق چاہتا ہے ۔تو وہ سبز خلعت جو تم کو فلاں رات دیا گیا تھا۔وہ میرے ہی ہاتھ سے پہنچایا گیا تھا۔اور فلاں رات جو فتوحات حاصل ہوئی وہ میرے ہی ہاتھ بھیجی گئئ تھی۔اور دوسری بات جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔یہ ہے کہ درکات میں بارہ ہزار ولی کو خلعت ولایت دی گئی تھی۔اور وہ سبز پیرہن کہ جس کی طریزیں سورہ اخلاص شریف کی تھیں تیرے لیے میرے ہی ہاتھ سے بھیجی گئی تھی۔
“For the Original Arabic and Romanized Qaseeda Ghausia Text, please click here.”